Friday, February 26

اردو ورڈپریس بلاگز کے لیے ۔۔ شارپ اورنج تھیم

.

آج ایک اور تھیم کو اردو لوکلائیز کیا ہے ۔۔ تبصرات میں اردو پیڈ شامل ہے اور تھیم ویجٹس ریڈی ہے ۔۔ تھیم کو مزید کسٹومائیز کرنا آسان ہے ۔۔ سائیڈ بار میں موجود بینر کو آپ اپنے پاس موجود کسی بھی دوسری تصویر سے بدل سکتے ہیں ۔ اور لنک کو sidebar.php فائیل ایڈیٹ کر کے تبدیل کر سکتے ہیں ۔

شارپ اورنج

http://i28.tinypic.com/5lp5k2.jpg

تھیم کو ڈائنلوڈ کریں ۔

وہ احباب جو ورڈپریس اور تھیم کی تنصیب سے واقف نہیں وہ اردو محفل میں اردو بلاگنگ فارم سے مدد لے سکتے ہیں ۔

Monday, February 22

اردو بلاگ ۔۔ ورڈپریس

.

..

بلاگ سپاٹ پر میرا بلاگ بہت پرانا ہے ۔۔ مگر ورڈ پریس کی افادیت سے انکار ممکن نہیں ۔۔ جلد میں اپنا اردو بلاگ ورڈ پریس بلاگنگ انجن پر منتقل کر رہا ہوں ۔

.
.

بلاگ سپاٹ فری بلاگ مہیا کرتا ہے جس وجہ سے یہاں پر بلاگ قائم دائم رہتا ہے مگر فیچرز بہت محدود ہیں ، گوگل والے ویسے بھی بہت زبردست مفت سروسس مہیا کرتے ہیں ، پر ویڈپریس بلاگنگ میں اپنا مقام رکھتا ہے ۔

.

سو انشا اللہ جلد ورڈپیرس پر بلاگ منتقل کر رہا ہوں

Tuesday, December 22

کیا بلاگ کریں کیا نا کریں ۔۔

.

..

جی کبھی سوچتا ہو تو لگتا ہے بلاگ کرنے کو کچھ نہیں ۔۔ پر پھر پتا چلتا ہے ارے اتنا کچھ تو پہلے کبھی تھا نہیں ۔۔ ایک تو میں فل ٹائیم کا ویلا انسان اوپر سے سوچ کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ۔۔

.
.

یہ ٹویٹر اچھا ہے ۔۔ پل پل کی بلاگ پوسٹ وہاں کرنے کو ملتی ہے اور حالات پر ہلکا پھلکا تاثر وہاں لکھے دیتا ہو ۔۔ سوشل ویب کی اڈیکشن تو نہیں پر اس سے بچا بھی نہیں ہو ۔

تو ابھی کیا بلاگ کروں یہ سوچ رہا تھا تو ٹویٹر پر یہ ایک ویڈیو ملی مجھے ۔۔ اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد کچھ حد تک تو میں بہت ہستا رہا پھر سوچتا رہا اور پھر ہستا رہا ۔۔ پھر تھک کر سوچا کہ ان صاحب کی جگاہ پر اگر میں ہوتا ۔۔ تو امی ابو مجھے بہت ڈانٹ تے ۔

دوست احباب کہتے ہیں یہ میڈیا زمادار ہے ۔۔ نا یہ ہوتا اتنا آزاد نا ہی اتنی پریشانیاں ہوتیں ۔۔ ٹھیک ہی کہتے ہونگے پر میرے لیے تو یہ ایک میڈیا ہی ہے کہ میں اندازہ لگا سکتا ہو کہ کون کہاں ہے ۔

Saturday, November 28

بڑی عید مبارک

.

اس ماہ گھر میں کافی ہل چل ہے ۔۔ ایک نوئی کار کی آمد ہے دوسرا ہے عید ۔۔ اور تیسرا میرے وزن میں اب اضاوہ متوقہ ہے ۔۔ جی میں بہت کمزور سنگل پسلی تھا اب زرا صحت سمبھلی ہے ۔

کمپیوٹنگ میں اللہ تعلی نے کافی علم سے نوازا ہے پر کار چلانا ۔۔ وہاں رہ گیا میں ۔۔ الف ب تک کا نہیں پتا میرا چھوٹا بھائی نعمان اللہ اس کو ہمیشہ خوش رکھے کیا کمال حاصل ہے اس کو کار چلانے میں ۔۔ کار چلانا ہی نہیں اس کو پھر سمبھالنا بھی تو ایک فن ہوتا ہے ۔۔ نہلانا دھلانا صاف صفائی رکھنا ۔

بڑی عید کو بڑی کیوں کہتے ہیں یہ سوال زہن میں چل رہا ہے اور انتظار ہے اب اگلے دن کا ،

دوست احباب نے مشورہ دیا کہ ریحان عید ہے بڑا گوشت بہت کھانا پر مجھے بڑا گوشت زرا نہیں پسند ۔۔ عید جیسے آتی ہے ویسے گزر جاتی ہے چھوٹے ہوتے تھے تو بڑا شغل کرتے تھے وہ وقت پھر یاد آتا ہے ۔

ملکی حالات بھی اب زرا سمبھل رہے ہیں ۔۔ موسم بھی ٹھیک ہے ۔۔ لوڈ شیڈنگ بھی کنٹرول میں ہے نہیں تو کوئی ٹینشن تھی کے کب کیا ہونے والا ہے ۔۔ ہر پل ایک خوف سا چھایا رہنا ۔۔ سنجیدہ بلاگنگ سے ہٹ کر مائکرو بلاگنگ سے وابستہ رہا ۔۔۔ اب اللہ حالات ٹھیک ہی رکھے ، اس بار کی تو سردیاں بھی یہاں عجیب سی ہیں ۔۔ کہ دسمبر آگیا پر وہ والی کڑک دار سردی کہی سستا رہی ہے شاید ۔۔ یا پھر یہ گلوبل وارمنگ کا اثر ہوگا ۔

آپ سب کو بڑی عید بہت بہت مبارک ۔۔

http://i49.tinypic.com/102utuc.jpg

Sunday, November 1

جان دینے کا جزبہ ، سنگین حالات

.

انسان کے اندر جانے کیسے اور کہاں سے اک ایسا جزبہ بیدار ہو جاتا ہے کہ وہ کسی مقصد حصول کے لیے مر جانے سے بھی گریز نہیں کرتا

آزادی سے پہلے کیا انگریز کا یہ ظلم تھا یا اس کا انگریزی سسٹم ، جس نے انسان کے اندر ایک مقصد کے لیے جان قربان کر دینے کا جزبہ بیدار کیا ۔ انگریزوں کے ہاتھوں کئی پھانسی چڑھے تو کئی لڑائی میں مرے ۔

آج بھی ہم سب وہی انسان نہیں ؟ ۔۔ کیا ہم میں بھی وہی جزبہ ہے کہی ؟ ۔۔ مجھے نہیں لگتا ۔۔ سب کہانیاں سی لگتی ہیں ۔۔ یہاں مجھ کو سوئی چبھ جانے کی ٹنشن ستاتی ہے ۔۔ جان کیوں کر جائے ۔

پر ہم میں ہی آج کچھ ایسے انسان موجود ہیں جو اپنی جان دینے کے ساتھ ساتھ معصوم عوام کو بھی ساتھ لے مرتے ہیں ، ان میں جان دینے کا جزبہ بھی کہی سے تو بیدار ہوتا ہے ۔۔ کیا ظلم کی وجہ سے ۔۔ تنگ دستی کی وجہ سے ۔۔ ! !

ظلم ۔۔ تنگدستی ۔۔ مجبوریوں کا حالات پو حاوی ہونا ۔۔ شاید یہ کچھ وجوہات ہو سکتئ ہوں کہ خود کش حملہ آور اپنی جان دینے کو تیار ہوتا ہے ۔ سو خودکش حملہ آور تو پھر تب تک پیدا ہوتے رہیں گے جب تک حالات تنگی کا شکار رہیں گے ۔

اگر ہم سٹیسٹکس پر نظر ڈالیں تو باخوبی جان جائینگے کہ امرینکن موڈریٹس دنیا کے سب سے ظالم لوگ ہیں ۔۔ وہاں پولیس کے سامنے نیگروز غنڈے انسان کو کاٹ ڈالتے ہیں کھلم کھلا گروپس بنا کر چوری و راہ زنی کرتے ہیں ۔۔ یہ یہاں پاکستان میں ایک غریب مگر طاقت ور مزدور کے دل میں اللہ کا خوف اور خاندان کا بھرم ہی ہے کہ وہ اپنا غصہ قابو میں رکھے ہوے ہے گر وہ آپے سے باہر ہوا تو ایک اکیلا جانے کت نوں کو لے اڑے ۔

حالات انسان کے اندر بڑے سے بڑا مقصد بیدار کرتے ہیں ۔۔ خودکش حملہ آوروں کو جب میڈیا اسلامی جہاد کا نام دیتا ہے تو مجھے بہت عجیب لگتا ہے ۔۔ ایسا لگتا ہے جیسے کہ ہمارا میڈیا اور ہمارے سیاسستدان کوئی چار پانچ سال کے بچے ہیں جن کے امی ابو نے ان کو ٹیرر ازم ایکول تو انتہا پسندی سمجھا رکھا ہو ۔

جرگہ سسٹم ۔۔ گاوں کا پنچائیتی سسٹم ۔۔ یہی تو نظام ہیں ہمارے اپنے ، یہی تھے تھے یہاں 9 / 11 ہوا اور تب کے بعد جیسے یہ ہمارا اپنا نظام برا ہوا گیا ۔۔ اور ہم جیسے گلٹی ثابت کر دیے گئے ۔ جمہوریت ہونے کے باوجود یہاں بہت سے ایسے بڑے بڑے اقتدام اٹھائے گئے ہیں جہاں عوامی رائے کو قطعن نظر انداز کیا گیا ہے ۔۔ جس میں جنگ بھی شامل ہے ۔۔ اور کیری لوگر بل بھی ۔۔ یہ ڈیڑ ارب ڈالر کس قدر کرپٹ لوگوں کی جیب میں جانے والا ہے اس سے چینی سے ترسی غریب عوام کو اب کیا غرض ۔

میری اللہ تعلی سے دعا ہے کے حالات کو مزید سنگین ہونے سے بچائے ، کہ اتنے برے حالات کبھی نہیں تھے ۔