Monday, August 17

میرا سکول میری تعلیم ۔۔ منفرد یاد

.
http://profile.ak.fbcdn.net/object3/40/41/n27306572914_2990.jpg
.

فرید ٹاون میں گونمٹ کمپری ہنسو سکول ۔۔ ساہیوال کا دوسرا بڑا اردو میڈیم سرکاری سکول ہے ۔ میں ہشتم میں اٍس سکول میں آیا ۔۔ پہلے دو سال بہت زبردت گزرے ۔۔ حالات کچھ ایسے تھے کے ہر دوسرے دن گیارہ بارہ بجے ۔۔ کالج کے لڑکے آکر چھٹی کرا جاتے ۔

کمپری ہنسو ۔۔ یہ وہ جگاہ تھی جہاں میں اپنے دن کے چھے کوالٹی والے گھنٹے گزارتا تھا ۔۔ دوست بنے ۔۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ سوشل ازم کے تجربات بھی یہی حاصل ہوے ۔۔ پھر وہ سال آیا جب میں نے سائینس کے سبجیکٹ کے ساتھ اب نہم دہم کمپلیٹ کر کے ۔۔ اس سکول کو اللہ حافظ کہنا تھا ۔

نہم میں کمپیوٹر کا سبجیکٹ رکھا ۔۔ اب میرے کمپیوٹر والے کیڑے سے تمام کلاس واقف تھی ۔۔ ہمارے کلاس انچارج تو مجھے اساما بن لادن کا ہم دم کہتے تھے ۔۔ تب انٹیرنیٹ بہت مہنگا تھا سو جو انٹیرنیت چلاتا تھا اس کا آٹو میٹک سٹیٹس اور سے کچھ اور ہو جاتا تھا ۔

کمپیوٹر ٹیچر گورمنٹ نے ہمارے سکول میں جو آپائنٹ کیا ۔۔ وہ مکمل سفارش کی طاقت کے موں بولتے ایک ثبوت تھے ۔۔ کیونکہ وہ کلاس میں تو آتے تھے ۔۔ پر ان کو خود کچھ آتا نہیں تھا تو بچوں کو کیا پڑھاتے ؟

یہ شکایت لے کر میں پرنسپل کے پاس گیا ۔۔ کہ سر یہ حالات ہیں ۔۔ کمپیوٹنگ وہ سبجیکٹ ہے جو آنے والے دنوں میں حاوی ہو جانے والا ہے ۔۔ وہ اور بات ہے کہ ابھی اس سبجیکٹ میں زیادہ بچے انٹرسٹ نہیں لے رہے ۔۔ پر ہم صرف بارہ سٹوڈنٹس جو اس سبجیکٹ کو اختیار کر چکے ہیں اب کوالٹی تعلیم کے بھی حقدار ہیں ۔

پرنسپل مجھے جانتے تھے کہ میں کمپیوٹنگ کی تھوڑی بہت سمجھ رکھتا ہو ۔۔ سو ان ہو نے میری شکایت کو بہت تصلی سے سنا ۔۔ اور جواب میں کہا “ ریحان ہم نے گورنمنٹ کو درخواست دی تھی ۔۔ ایک عدد کمپیوٹر ٹیچر کی ۔۔ گورنمنٹ نے جن کو بھیجا ہے اب ہم کو ان پر تصلی رکھنا ہوگی ۔ ۔۔ پر آپ کو پوری آزادی ہے گر آپ ان ٹیچر کے ساتھ مل کر دوسروں کو کمپیوٹر سکھا سکو “

پرنسپل سر کی بات سن کر میں وہاں سے واپس آگیا ۔۔ اور سوچا کہ کمپیوٹر سر سے اب یہ سب میں کہوں کیسے ؟ خیر سوچوں سوچوں میں دو دن گزرے اور تیسرے دن ہم کمپیوٹر سٹوڈنٹس کو اطلاع ملی ۔۔ کے کمپیوٹر لیب کے کمپیوٹر رات کو کسی نے چوری کر لیے ۔

حصاب لگا لیں اب ۔۔ کمپیوٹر ۔۔ چوری ہوگئے ۔۔ یہ حال تھا ۔

اور اب کا حال کیا ہے ؟ ۔۔ فل وقت گرمیوں کی چھٹیاں ہے ۔۔ اور میں پہلے فرصت میں اب کا حال جان کر آوگا ۔

9 comments:

  1. اب کچھ کچھ سمجھ میں آیا کہ آپ پریشان کیوں رہتے ہیں ۔ ہي ہي ہي

    ReplyDelete
  2. بلکل ۔۔ پریشان تو رہتے ہیں ۔۔ پر آپ بتائے تو آپ نے تحریر میں کونسی وجہ شناخت کر لی سر ؟

    ReplyDelete
  3. یہ پرانے کمپیوٹر تھوک کے حساب سے آج سے پانچ سات سال پہلے سکولوں میں پہچائے گئے تھے۔ اس انقلاب کا نام تو یاد نہیں آرہا لیکن آخری اطلاعات تک ہمارے سکول میں کوئی لیبارٹری نہیں بن سکی تھی اب بن گئی ہو تو کہہ نہیں سکتا۔
    پس موضوع: آپ نے تسلی کو ص کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ براہ کرم تصحیح فرما لیں۔

    ReplyDelete
  4. یہ یوم تعلیم کے لیے پوسٹ لکھی ہے?

    ReplyDelete
  5. دوست شکریہ ۔۔ تصحیح کر لی ہے ۔

    ماورا جی ۔۔ بٍلکل ۔۔ آج یومٍ تعلیم والی ڈیٹ ہے

    ReplyDelete
  6. یہ تو کچھ بھی نہیں
    ہماری تو یونیورسٹی سے ۲۶ کمپیوٹر ٹیں کڑچ ہو گئے تھے
    نا اہل لوگوں کے پاس ایک بڑا کام کا یہی ہتھیار ہوتا ہے جی
    ;)

    ReplyDelete
  7. ڈفر بھائی ۔۔ حیرانگی تھی ۔۔ کہ ایک تو کمپیوٹنگ سبجیکٹ کوئی رکھتا نہیں تھا اور پھر کمپیوٹرز ہی وہاں سے غائب ہو گئے ۔۔ چوری کے بعد ٹیچر کا ایک اپنا بیان تھا اور ہم سٹوڈنٹس کا اپنا اپنا ۔

    اور وہ چھے عدد کمپیوٹر تھے بھی ایک دم نئے ۔۔ برانڈڈ پینٹم فور یعنی تب کی سب سے جدید پراسیسر ٹیکنالجی

    ReplyDelete
  8. شکریہ سمن بھائی ۔۔اور سکول میں اور بھی بہت کچھ گوڈ تھا جیسے جب جب مجھے بلاک بوائے بن نے کی ڈیوٹی ملتی تھی ۔۔جو کبھی کبھی ہی ملتی تھی ۔۔ سال میں جیسے ایک بار ۔

    ReplyDelete